امجد بٹ ۔ مری
دستار کے ہر پیچ کی تحقِیق ہے لازم
ہر صاحبِ دستار مُعزّز نہِیں ہوتا
اگرچہ ہمارے تعلِیمی زوال کے مُختلِف اسباب ہیں لیکِن موجُودہ تعلِیمی تباہی میں سب سے زیادہ والدین ، اساتذہ ( محکمۂ تعلِیم)اور بِالترتِیب مذہبی پیشواؤں اور مُصنّفِین سے کوتاہیاں سرزدہُوئی ہیں جو وہ ہمارے تعلِیمی قِبلے کا تعیّن کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔
جو کوئی بھی یکساں نِصاب تعلِیم ، قومی زُبان کے عملی نفاذ ، یُونین بازی کے خاتمے اور یکساں نِظامِ تعلِیم کے ذریعے اِس کا حل تلاش کرتا ہے تو اُس پر ترقّی کے دُشمن اور رُجعت پسند جیسے مُختلِف اِلزامات لگا کر بڑے پیمانے پر رد کِیا جاتا ہے اور اِس سازِش کی حِمایت شعبۂ تعلِیم کے سرمایہ کار ، افسرانِ اعلیٰ ، مذہبی پیشواء اور سیاست دان کرتے ہیں جِن کے اِس اِستحصالی نِظامِ تعلِیم کے ساتھ کمِیشن اور سماجی و مُعاشی مُفادات وابستہ ہیں ۔
گُزشتہ برس گھوڑا گلی کے گورنمنٹ ہائی سکُول میں نقل کروانے کے واقعے میں مُلوّث سکُول کے اُستاذِ مُکرّم یعنی پنجاب ٹِیچر یُونین مری کے مرکزی عہدیدار پر ہونے والی ایف آئی آر نہ صِرف یہ ثابِت کرتی ہے کہ اپنے تعلِیمی نتائج کو بہتر بنانے لیکِن نِظامِ تعلِیم کو بِگاڑنے میں ہمارے اُستاذ نُما پراپرٹی ڈِیلروں کا کِتنا ہاتھ ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ محکمۂ تعلِیم کے افسران نے جعلی نتائج کے ذریعے اپنی نوکریوں کو بچانے کے لئے یُونین عہدے داروں کو کِتنی کھُلی چھُٹّی دے رکھی ہے ؟ جِس جِس سکُول میں یُونین عہدے دار موجُود ہیں وہاں اساتذہ کے مسائل کے حل کےحوالے سے سائلِین کا جمگھٹا لگا رہتا ہے ، سکُول کا نِظام الاوقات یُونین بازی کی نذر ہو جاتا ہے اور والدین بچّوں کو پرائیویٹ اِداروں میں لے جاتے ہیں ۔ افسران کا یُونین کے عہدے داروں کے ساتھ اِشتراک نہ صِرف ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک دُوسرے کی تعلِیمی اور دفتری کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تعلِیم کو دہائیوں سے داؤ پر لگاتے آ رہے ہیں بلکہ یہ بات بھی سمجھنے میں دیر نہِیں لگتی کہ سکُولوں کا مجمُوعی نِظام چلانے کے لئے حکُومت نے جو تنخواہ دار افسر نُما مُلازم رکھے ہیں اُن کی اکثریت نااہل ہے جِنہیں بہتر دفتری نِظام کے لئے اساتذہ کی مُعاونت درکار ہوتی ہے یا پھِر اِن افسران کی طرح یُونین کے تمام عہدے دار نالائق ہیں جو اپنی عِزّت دار پیغمبرانہ اور پیشہ ورانہ ذِمّہ داریاں چھوڑ کر دفتری مُنشی بننے کو ترجِیح دیتے ہیں ۔ یُونین کا عہدے دار ہی وہ بنتا ہے جو تعلِیمی ، جِسمانی اور ذہنی طور پر معذُور ہو ۔ آپ اِن کے پُورے سال کے پِیریڈ کا جائزہ لیں تو آسان ترِین مضامِین ( مُعاشرتی عُلُوم ، اِسلامیات وغیرہ) اِن کے تعلِیمی ٹائم ٹیبل کا مرکزی حِصّہ ہوں گے ۔ جبکہ سائنس ، ریاضی ، انگریزی اور اُردُو سے یہ جان چھُڑاتے ہیں ۔ ایک ہائی سکُول یا پرائمری سکُول کے ہیڈ ماسٹر سے اپنے ہی سکُول کی آخری کلاس کا اِمتحان لے کر دیکھ لیں ، موصُوف شاذ و نادر ہی کامیاب ہوں گے ، کِیُونکہ اِن کا اپنے جدِید مُطالعے کا سِلسِلہ رُک چُکا ہوتا ہے ۔ یُونین عہدےدار اساتذہ جو اُردُو اور انگریزی برائے نام پڑھاتے ہیں اُن کے شاگِردوں کی کاپیوں کی بغور پڑتال کی جائے تو پچاس فِیصد اغلاط کی نِشاندہی نہِیں کی ہوتی بلکہ صِرف “ٹِک” (√) اور دستخط کر کے روزانہ کی خانہ پُری کی جاتی ہے ۔ آئے روز یُونین عہدے دار محکمۂ تعلِیم کے افسران کے ساتھ مِیٹِنگ کے نام پر اور کبھی مِیٹِنگ کے بہانے ذاتی کاموں کے لئے اکثر اوقات دس تا گیارہ بجے سکُول سے چلے جاتے ہیں اور چھُٹّی سے پہلے یا دُوسرے روز آ کر حاضری لگا لی جاتی ہے ۔ سکُولوں میں موجُود باقی چاپلُوس اور بُزدِل اساتذہ “اے ۔ سی ۔ آر” خراب ہونے کے ڈر سے کوئی اعتراض نہِیں کر پاتے کِیُونکہ اُنہیں بھی مُختصر رُخصت سے اِستفادہ کرنا ہوتا ہے ۔ نِیز ہر ہیڈ ماسٹر یُونین عہدے داروں سے بنا کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ ڈرتا ہے ۔ اِس سارے ظُلم اور تعلِیمی و ذہنی قتلِ عام کا شِکار معصُوم طُلباء و طالِبات ہوتے ہیں جو اساتذہ کی عدم موجُودگی میں اپنے تعلِیمی حق سے محرُوم کر دِیئے جاتے ہیں ۔ جِس مُلک میں دو کروڑ ستّر لاکھ بچّے سکُول نہ جا سکتے ہوں ، اور جِس صُوبے میں 6244 سکُول ، ہیڈ ماسٹروں سے محرُوم ہوں ، ایک لاکھ اساتذہ کی کمی ہو ، 65 فِیصد مُستقِل پوسٹیں خالی ہوں اور پروموشن روک کر عارضی بھرتی جاری ہو تو وہاں نِظامِ تعلِیم سے نفرت کا لاوا ایک روز اِسی طرح پھٹتا ہے ۔ آپ اکثر سکُول اساتذہ کے اِضافی ذرائع مُعاش تلاش کریں تو ہر شہر میں درجنوں پراپرٹی ڈِیلر ، دُکاندار اور ٹرانسپورٹر ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے ۔ راقم ذاتی طور پر کئی ایسے اساتذہ کی نِشاندہی کر سکتا ہے جو نہ صِرف کئی برس سکُولوں سے غیر حاضر رہ کر واپسی پر مُقتدر سیاست دانوں کی محکمانہ مُعاونت اور اپنے اپنے ہیڈ ماسٹر کی مِلی بھگت سے اِکٹھّی تنخواہیں وصُول کرتے رہے ہیں ۔ بلکہ ماضی بعِید اور ماضی قرِیب میں تبلِیغی جماعت کے ساتھ چھ چھ ماہ کے لئے بیرون مُلک چِلّے لگا کر آئے اور واپسی پر ہیڈ ماسٹروں کی “مُعاونت” سے نہ صِرف سابق حاضریاں لگائیں بلکہ تنخواہیں بھی وصُول کِیں ، سکُولوں اور غیر مُلکی پروازوں کے ریکارڈ کی پڑتال اِس بات کی گواہی دے رہی ہے ۔ حالانکہ تبلِیغی جماعت کے مرکزی راہنُما مولانا اِلیاس رحمتہ اللّٰہ علیہ نے ایبٹ آباد کے جلسے میں اساتذہ کے سکُولوں سے چھُٹّی لے کر جماعت کے ساتھ جانے کو جائز قرار نہِیں دِیا ، چہ جائیکہ وہ اللّٰہ کی راہ میں جماعت کے ساتھ تبلِیغ پر جائیں اور واپس آ کر عدم موجُودگی والے ایّام کی حاضری لگائیں اور تنخواہ بھی وصُول کریں ۔ اہلِ مری ایسے شہزادے ہیڈ ماسٹر کو ابھی نہِیں بھُولے ہوں گے جِس کو سکُول کے کمرے ذاتی جائیداد سمجھ کر کرائے پر لگانے اور سرکاری زمِین پر ذاتی گھر تعمِیر کرنے کی پاداش میں مُعطّل کر دِیا گیا تھا ۔
باڑیاں سے تریٹ اور دیول ، اوسیا سے ایکسپریس وے کے کئی سکُولوں میں اپنی اِمتحانی ڈیُوٹی کے دوران میں ، ہیڈ ماسٹر اور سٹاف کو مِل کر بچّوں کو پرچے حل کرواتے دیکھا ، چیکِنگ والا عملہ بھی اکثر یکساں برادری اور تعلق داری کے باعث کھانے کھا کر چلا جاتا ہے ، میرے احتجاج پر مِلی بھگت سے ڈیُوٹی ختم کروا دی گئی ۔
محکمۂ تعلِیم کے ضوابط میں شامِل ہے کہ تعلِیمی اوقات کار کے درمیان میں ہر مُلازم کا فُون دفتر میں جمع ہو گا لیکِن اکثر یُونین عہدے داروں نے خُود کو اِس سے مُستثنیٰ کر رکھا ہے ۔ اِن کے خِدمت کے یہ سارے جذبات سکُول اوقات کے بعد برُوئے کار لائے جائیں تو “خِدمت” کا سارا بُخار اُتر جائے گا ۔
نِظامِ تعلِیم کے درجِ بالا منفی پہلوؤں سے والدین چاہے واقف نہ ہوں لیکِن اِنتظامیہ ضرُور واقف ہے ۔ دُوسری طرف سابقہ اور موجُودہ حکُومتوں کی لاپرواہی بلکہ تعلِیم دُشمنی ہے کہ جب دُنیا بھر میں مصنُوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے سیاسی ، ثقافتی اور اِقتصادی کمندیں ڈالی جا رہی ہیں تو ہم اُس وقت بھی دُنیا کے سائنسی عُلُوم کو قومی زُبانوں میں مُنتقِل کرنے سے قاصِر ہیں ، محدُود اساتذہ نے ایسے مُحقّقِین تیّار کِیے جِنہوں نے سائنسی مضامِین کی لُغات مُرتّب کی ہیں ۔ بلکہ اُناسی برس سے انگریزی میں جان کھپانے کے باوجُود کوئی دوا اِیجاد یا دریافت نہِیں کر سکے ۔ ہمارے نامور سائنسدان ، جرنیل اور عالمی سطح کی پاکِستانی شخصیات سب اُردُو مِیڈیم ہیں کِیُونکہ وہ انگریزی کی بجائے مادری زُبان میں سوچتے ہیں ۔ قومی زُبان کے حوالے سے ہماری اکثریت کو ڈرامائی زِندگی ، افسانوی اور جِسمانی اعضاء کی شاعری کا عادی بنایا جا رہا ہے جبکہ فِکری تربِیّت اور متوازن شخصِیّت بنانے کے لئے ادب برائے زِندگی آج کی اہم ضرُورت ہے ۔
نبی پاک کے فرمان کا مفہُوم ہے کہ” اللّٰہ تعالیٰ نے ہر اِنسان کو ایک خاص فِطرت( رغبت اور مِیلان) پر پیدا فرمایا ہے”
جب تدرِیسی رُجحان نہ رکھنے والے نوجوانوں کو بطور مُعلّم مُتعیّن کِیا جاتا ہے تو ہم تعلِیمی نِظام بِگاڑنے کی بُنیاد رکھتے ہیں یا جب ہم فطرتاً تدرِیسی رُجحان رکھنے والے اساتذہ سے غیر تدرِیسی کام لیتے ہیں تو ہم دراصل قوم کے معمار کو تعلِیم کے عمل سے مُتنفّر کر رہے ہوتے ہیں اور یہ ظالمانہ کام ہماری حکُومتیں آٹھ دہائیوں سے کرتی آ رہی ہیں اور سب سے زیادہ تعلِیم دُشمنی کا کِردار نُون لِیگی حکُومت نے کِیا ہے ۔ پولیو کے قطرے ، اِنتخابی ڈیُوٹیاں ، ووٹیں بنانا ، ایجُوکیشن سروے ، یُو ۔ پی پروگرام ، خانہ و مردم شُماری ، پیٹ کے کِیڑوں کا خاتمہ ، ڈینگی بچاؤ سروے کا وٹس ایپ فوٹو سیشن ، زیبرا کراسِنگ اور اِمتحانی ڈیُوٹیاں ، کون سا غیر تدرِیسی کام ہے جو حکُومت اساتذہ سے نہِیں کرواتی ؟ بلکہ نوّے کی دہائی میں مری کے ایک معرُوف چئیرمین نے کِسی این جی او کو خُوش کرنے کے لئے ایم سی اساتذہ کی تذلِیل کی اِنتہا کر دی ۔ مقامی ہوٹلوں کے سِیورج سِسٹم ، گندی نالیوں اور واش رُومز کی جُزئیات بارے معلومات جمع کروانے کے لئے مری میُونسپل اساتذہ کو موقع پر جا کر کام کرنے کے لئے پندرہ روزہ مراسلہ جاری کِیا گیا تھا ۔
جب ایسے کاموں کے لئے پنجاب کے ہزاروں اساتذہ فِیلڈ میں ہوتے ہیں تو اِن کی عدم موجُودگی میں لاکھوں طُلباء و طالِبات کا تعلِیمی مُستقبِل داؤ پر لگ جاتا ہے ۔ اساتذہ کی تعیناتی کے وقت ایسی ڈیُوٹیاں مُلازمتی مُعاہدے کا حِصّہ نہِیں ہوتِیں ۔ البتّہ عیال دار اساتذہ کو اِضافی مُعاوضے کا لالچ دے کر در در کی ٹھوکریں کھِلائی جاتی ہیں ، اِنتخابات کے دِنوں میں کالج کے پروفیسروں کو بھی اِنتخابی سامان “پانڈی “مزدُوروں کی طرح ڈھوتے دیکھا ہے اور اِس طرح نِظامِ تعلِیم کو اپاہج کر دِیا جاتا ہے ۔ حالانکہ حکُومت کے پاس مُتعلقہ محکموں کی فوجِ ظفر موج موجُود ہوتی ہے ۔ پولیو کے قطرے جو پہلے اساتذہ پِلاتے تھے ، اب حکُومت اِس کام کے لئے جِن میٹرک فیل خواتِین کو گھر گھر بھیجتی ہے وہ پولیو ویکسِین کے اجزائے ترکِیبی یا فارمُولہ تک نہِیں بتا سکتِیں کہ بچّوں کو زہر پِلایا جا رہا ہے یا تریاق ؟ اِن حالات میں حکُومت یا والدین اساتذہ سے بہتر نتائج طلب کرنے کا حق نہِیں رکھتے ۔ حکومتِ وقت نہ صِرف اساتذہ سے درج بالا کاموں میں بیگار لیتی رہی ہے بلکہ اُن کے اصل حقُوق سے بھی محرُوم کر رہی ہے ۔ تنخواہوں اور پینشن میں کمی ، پینشن ملازمتیں ختم ، “لِیو اِنکیشمِنٹ” کا خاتمہ کر کے حقُوق کو غصب کِیا جا رہا ہے ۔ جبکہ افسر شاہی ، جج ، جرنیل ، گریڈ اٹھارہ سے اُوپر کے مُفت خور افسران اور پارلِیمنٹ کے وطن دُشمن سیاست دانوں کے مُعاوضوں میں لاکھوں کے اِضافوں کے باعث ایک اور لاوا پک رہا ہے ۔ حکُومت دراصل اساتذہ سے اُن کے حقُوق نہِیں بلکہ درحقِیقت اپنی نسلوں سے اُن کا بہتر مُستقبِل چھِین رہی ہے ۔ دُنیا بھر کی حکُومتیں اپنی نسلوں اور مُلکوں کو محفُوظ رکھنے کے لئے اساتذہ کو مُعاشرے کا خُوشحال فرد بناتی ہے اُن کی تعلِیم اور صحت کو اولِیّت دیتی ہے جبکہ ہماری حکُومت ، محکمۂ تعلِیم پنجاب کی بہترِین عمارات والے سکُولوں اور ہسپتالوں کو اپنے منظورِ نظر سرمایہ داروں کو اپنی کمِیشن کے بدلے سونپنے کے لئے اِن کے حالات اور نتائج کو ناقص بنا کر پرائیویٹ کرنے کے لئے جواز پیدا کر رہی ہے تا کہ جب حُکمرانوں کو اچانک بھاگنا پڑے تو یہی سرمایہ دار اور افسر شاہی اِن کی مدد کر سکے اور ہم اساتذہ اپنی خُوشحالی کے لئے سکُولوں میں رہتے ہُوئے پراپرٹی ڈِیلر کا کِردار ادا کرتے رہیں ۔
اِس بار جماعت نہم کے اِمتحان میں پُورے پَنجاب سے تیرہ لاکھ پچانوے ہزار چار سو پچہتّر(13,95,475) اُمِیدوار شرِیک ہُوئے جبکہ چھ لاکھ اِکیالِیس ہزار چھ سو باسٹھ(6,41,662) کے کامیاب ہونے پر نتِیجہ(46) چھیالِیس فِیصد رہا ۔ قرِیباً(54) چووّن فِیصد یعنی سات لاکھ ترپن ہزار آٹھ سو تیرہ(7,53,813) طُلباء و طالِبات ناکام ہُوئے ۔ اِس وقت پَنجاب کے قریباً (43،000) تینتالِیس ہزار سکُولوں میں پرائمری (26,782) مِڈل (7,217) ہائی (8,081) اور ہائیر سیکنڈری سکُولوں کی تعداد (857) ہے ۔ جِن میں قرِیباً سوا کروڑ طالبِ عِلم اپنی پیاس بُجھا رہے ہیں ۔ پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں میں قرِیباً دو کروڑ بچّے سرمایہ داروں کی تجوریاں بھرنے کے لئے زیرِ تعلِیم ہیں اور سکُولوں میں تعلِیم حاصِل نہ کر سکنے والے بدقِسمت طلباء و طالِبات کی تعداد دو کروڑ ستّر لاکھ ہے۔
گورنمنٹ کی غلط یا جانی بُوجھی حِکمتِ عملی کے باعث (5800) سکُولوں کی نِجکاری اور سرکاری اساتذہ کی ہڑتالوں کی وجہ سے صِرف ایک سال میں سات لاکھ بچّے سرکاری سکُول چھوڑ گئے ۔ سوا کروڑ بچّوں کو پڑھانے کے لئے حکُومتِ پَنجاب چار لاکھ اساتذہ کو قریباً 374 ارب رُوپے تنخواہ دیتی ہے جبکہ فی بچّہ اوسطاً ایک لاکھ رُوپے سالانہ خرچ آتا ہے ۔ یاد رہے کہ پنجاب کا 26ء/2025ء کا کُل بجٹ 5335 ارب رُوپے ہے اور تعلِیم کے لئے 750 ارب یعنی کُل بجٹ کا 15 فِیصد مُختص کِیا گیا ہے ، جِس میں سے نِصف افسرانہ عیّاشیوں اور خرِیداری میں کمِیشن کی نذر ہو جاتا ہے ، یہی حال محکمۂ صحت کا ہے ۔ صحت کے لئے 400 ارب رُوپے یعنی بجٹ کا 08 فِیصد ہے ۔ بجٹ کا 50 فِیصد حِصّہ ، سُود کی ادائیگی ، دِیگر سرکاری مُلازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں خرچ ہو جاتا ہے ۔
مری میں پرائیویٹ سکُولوں کا جماعت نہم کا نتِیجہ 24 فِیصد رہا 1049 اُمِیدواروں میں سے 255 کامیاب اور 794 یعنی 76 فِیصد ناکام ہُوئے ۔ سرکاری سکُولوں کے 3912 اُمِیدواروں میں سے 1522 یعنی 39 فِیصد کامیاب جبکہ 2390 یعنی 61 فِیصد ناکام رہے ۔ ضِلع مری کے سرکاری اور پرائیویٹ اُمِیدوار کُل 4961 تھے جِن میں سے 1717 یعنی 36 فِیصد کامیاب اور 3184 یعنی 64 فِیصد ناکام ہُوئے ۔
درجِ بالا اعداد و شُمار کے ساتھ یہ بات بھی پیشِ نظر رکھنی ضرُوری ہے کہ گاؤں گھوڑا گلی اور گہل جیسے گورنمنٹ بوائز ہائی سکُولوں کے صِفر فِیصد نتِیجے کو ناکامی کے نمُونے کے طور پر پیش کِیا جا رہا ہے ۔ جب کہ گھوڑا گلی سکُول کے سربراہ کی حیثیت سے جناب کبِیر عباسی مری کے اُن چند سرکاری مُعلّموں میں سے ہیں جِنہوں نے نہ صِرف اپنے بچّے کو اپنے سکُول میں داخل کِیا ہے بلکہ دِیگر سرکاری مُلازمین کو اِس کے لئے قائل کِیا ۔ راقم اِس بات کا گواہ ہے کہ موصُوف اِنتہائی محنتی اور قابل مُدرّس ہیں ۔ موجُودہ حالات میں اِس تعلِیمی زوال پر اُن کے اِرشادات کا قابلِ غور خُلاصہ پیشِ خِدمت ہے :
1 ۔ ” گورنمنٹ سکُولوں کی سرکاری ، اِستحقاقی ، سرمائی اور اِتّفاقی تعطِیلات مجمُوعی طور پر چھ ماہ سالانہ بنتی ہیں اور اِس سال حکُومت کی طرف سے دی گئی اِضافی تعطِیلات کے باعث کُل پانچ ماہ بھی کلاسیں نہِیں ہُوئی ہیں ۔
2 ۔ نِصاب کی اچانک تبدِیلی اور سرکاری کُتب کی ڈیڑھ ماہ بعد دستیابی کو نظر انداز نہِیں کِیا جا سکتا ۔
3 ۔ جب آٹھوِیں جماعت تک نالائق بچّوں کو فیل کرنے اور مُسلسل غیر حاضر بچّوں کو خارج کرنا سرکاری طور پر ممنُوع ہو تو تعلِیمی حالت کیسے بہتر یو سکتی ہے؟ ”
راقم سوچتا ہے کہ اِسی شہر مری میں چند اِدارے ایسے بھی ہیں جِن کا مِشن طُلباء طالِبات کو بہترِین تعلِیم دینا اور جدِید تقاضوں کے مُطابق زِندگی کے ہر میدان میں مُقابلے کے قابل بنانا ہے اور اُن کے پڑھائے گئے بچّے کیسے آج دُنیا بھر میں خُود کو منوا کر اپنے اساتذہ ، والدین ، اِدارے ، مری اور پاکِستان کا نام روشن کر رہے ہیں ؟
پرائیویٹ تعلِیمی اِداروں میں پریزینٹیشن کانونٹ گرلز ہائی سکُول نے سو فِیصد کامیاب نتائج کے ساتھ سب سے نُمایاں نمبر لے کر کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں ۔(اوّل ۔ رومیسہ قاسِم کُل 555 نمبروں میں سے 534 ، دوم۔ رابعہ بصری 529 ، سوم ۔ مریم ستّی 528) جبکہ لارنس کالج نے بھی 43 بچّوں کے سو فِیصد نتائج کے ساتھ شاہسواری کے اعزاز کو برقرار رکھا ہے(اوّل ۔ ہادی ندِیم 534 ، دوم ۔ حمزہ خان 525 ، سوم ۔ اِنعام اللّٰہ 524)
وطنِ عزِیز کا محکمۂ تعلِیم اپنے مراکز میں بیٹھ کر مُقتدرہ ، تعلِیمی سرمایہ کاروں اور سیاست دانوں کی اِیما پر وٹس ایپ مراسلے جاری کر کے فوراً عمل کروانے کا عادی ہو چُکا ہے ، اور اُن مراسلوں پر عمل درآمد کے لئے تعلِیمی اِداروں کے سربراہان ، محکمے کے افسران اور ہر ضِلع کی اِنتظامیہ کو روبوٹ سمجھ رکھا ہے ، لہٰذا کاغذی کارروائی تو بہترِین ہے جبکہ تعلِیم کا تصوّر تک معدُوم ہو چُکا ہے ۔ اگر ہماری حکُومتی تعلِیمی حِکمتِ عملی درُست ہوتی تو ہمیں ایک سال میں ضِلع مری کے چار تعلِیمی افسرانِ اعلیٰ کو تبدِیل نہ کرنا پڑتا ۔ سی ای او ایجُوکیشن ڈاکٹر ضیاء اللّٰہ عباسی کو ماہ فروری میں سرمائی تعطِیلات کے دورانِ میں تعینات کِیا گیا ، وہ ابھی تک مری کی تعلِیمی پیچِیدگیوں ، سکُولوں اور اساتذہ سے اچھّی طرح واقف بھی نہ ہو پائے تھے کہ جماعت نہم کے مایُوس کُن نتائج کی روشنی میں ماضی کی تمام تعلِیمی ناکامیوں اور کمزوریوں کو اُن کے سر تھوپ کر اُن کی جگہ محترمہ سِدرہ بتُول کو تعینات کر دِیا گیا ہے ۔
اللّٰہ کرے ہم شعبۂ تعلِیم کو اپنے نِت نئے تجربات کی بھِینٹ چڑھانے کے بجائے کِسی حقِیقی ماہرِ تعلِیم کی مصاحبت میں آ جائیں ۔
