Murree news

شدید موسمی حالات میں ناصر شگری کو آبائی گھر سے بے دخل کردیا گیا

مری (بیورورپورٹ) پنجاب کے ایک ادارے سمیت بعض دیگر اہم اداروں کی جانب سے کسی بھی پیشگی نوٹس کے بغیر آپریشن کرتے ہوئے برصغیر کی تقسیم کے بعد حجرت کے بعد یہاں سکونت اختیار کرنے والی ایک انتہائی محب وطن شخصیت کے گھر کو اچانک ہی زمین بوس کر ڈالا۔اس دوان گھر کے مکین بے بسی کے عالم میں ان اداروں کے اہلکاروں کی منت سماجت کرتے ہوے اس آپریش کی وجہ دریافت کرتے رہے مگر انہیں کوئی بھی جواب نہیں دیا گیا۔ایسے میں معززین شہر نے اس واقعہ کو چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پالال کرتے ہوے ایک معزز شہری کو بے دردی سے بے گھر کیئے جانے پر شدید احتجاج کیا۔اس طرح کیئے جانے والے اس آپریشن 1947 کے دوران اپنا گھر بار چھوڑ کر محلہ شوالہ میں سکونت اختیار کرنے والے ناصر شگری اور انکی فیملی کو کسی بھی ادارے سے بغیر کسی نوٹس کے اپنے آبائی گھر سے بے دخل کر دیا گیا جس اس شدید موسمی حالات میں اپنے ہمسایوں کے ہاں پناہ لیئے ہوئے یں۔ ایسے میں ملک کی ایک بڑی رفاعی تنظیم تحریک شہر خموشاں پاکستان سمیت علاقہ کے لوگوں نے ناصر شگری جیسے بے ضرر انسان کو اچانک ہی بے گھر کیے جانے پر اپنے تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوے ناصر شگری کو فوری طور پر متبادل جگہ الاٹ کیئے جانے اور ابتدائی طور پر انہیں فوری معقول رہائش کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوے وزیر اعلیٰ سے اس سلسلے میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسے میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشوں کے موسم میں 78 سال کے بعد انہیں اچانک ہی بے دخل کر کے مکان کو مسمار کیا جانا ناقابل تلافی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ناصر شگری کے عقب میں 5 مرلہ رجسٹری پر کئی کنال اور مختلف فلیٹس بنے ہیں مگر انہیں ناجانے کس قانون کے تحت بے دخل کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں