حکیم حارث نسیم سوہدروی
پھل اور سبزیاں انسان کی فطری غذا ہیں۔جب انسان نے روئے زمین پر قدم رکھا تو نباتات ہی اس کی پہلی غذا اور بعد ازاں دوا بنیں۔صدیوں سے کچی اور پکی سبزیوں کا استعمال انسانی خوراک کا حصہ رہا ہے۔ماضی میں لوگ گاجر، مولی کچی کھاتے تھے اور سویا، دھنیا، پودینہ، پیاز اور لیموں سالن پر ڈال کر استعمال کرتے تھے۔
سردیوں میں پیاز کچل کر روٹی کے ساتھ کھایا جاتا تھا، جب کہ آم اور خربوزے کے موسم میں ان کے ساتھ بھی روٹی کھائی جاتی تھی۔سالن میں لیموں کے چند قطرے چھڑک کر کھانا بھی عام تھا۔
یہ سادہ اور فطری غذا صدیوں تک رائج رہی، مگر جب گوشت، مرغن اور تلی ہوئی اشیاء کو توانائی بخش سمجھ کر زیادہ استعمال کیا جانے لگا، تو گوشت ہی کو ضروری غذا تصور کیا جانے لگا۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد غذائی تحقیق کے نتیجے میں متوازن غذا کو صحت کے لئے لازمی قرار دیا گیا۔اس وقت صنعتی معاشرہ قائم ہو چکا تھا اور ہوٹلوں میں کھانے کے ساتھ سلاد پیش کیا جانے لگا، جسے مراعات یافتہ طبقے نے فیشن کے طور پر اپنایا، تاہم ہمارے معاشرے میں غذائی آگہی کی کمی کے باعث یہ رجحان عام نہ ہو سکا۔
متوازن غذا میں لحمیات (پروٹینز) نشاستہ (کاربوہائیڈریٹس)، چکنائی، حیاتین اور معدنی نمکیات شامل ہوتے ہیں۔
لحمیات دودھ، دہی اور گوشت میں پائی جاتی ہیں، نشاستہ آٹے، دالوں، چاول اور آلو میں ہوتا ہے، چکنائی دودھ، دہی اور تیل سے حاصل ہوتی ہے، جبکہ حیاتین اور معدنی نمکیات کا بنیادی ذریعہ پھل اور سبزیاں ہیں۔چونکہ حیاتین پکانے کے دوران ضائع ہو جاتی ہی، اس لئے کچی سبزیوں یعنی سلاد کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
شہری زندگی میں مرغن غذاؤں کے زیادہ استعمال اور فطری طرزِ زندگی سے دُوری کے باعث امراضِ قلب میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں گھی اور سیر شدہ چکنائیوں کی بجائے سویا، سورج مکھی، زیتون اور کینولا کے تیل استعمال ہونے لگے۔
اس کے باوجود حیاتین اور معدنی نمکیات سے متعلق آگہی کی کمی کے باعث بیکری کی اشیاء اور مٹھائیوں کا بے جا استعمال اب بھی عام ہے، حالانکہ طبی سائنس ثابت کر چکی ہے کہ مرغن اور تلی ہوئی غذا میں صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔اسی شعور نے متوازن غذا کے لئے پھلوں اور سبزیوں پر سلاد کا استعمال ناگزیر بنا دیا ہے۔
سلاد غذائی بھوک بڑھاتا اور کھانے کو جلد ہضم کرتا ہے۔
اس میں فائبر (پھوک) وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے، اس لئے یہ غذائیت فراہم کرنے کے ساتھ وزن نہیں بڑھاتا۔اس کے برعکس مرغن اور تلی ہوئی اشیاء میں چکنائی اور حرارے زیادہ ہوتے ہیں، جو موٹاپے اور مختلف امراض کا سبب بنتے ہیں۔اگرچہ بعض لوگ ذائقے کی وجہ سے سلاد کو نظر انداز کرتے ہیں، مگر جدید تحقیق ثابت کر چکی ہے کہ سلاد انسانی مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔
آسٹریلیا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پھل اور سبزیاں انسانی مزاج کو بہتر بناتی ہیں اور ماہرین کے نزدیک یہ جسم اور ذہن کے لئے بہترین سرمایہ کاری ہیں۔امریکا کی ایک یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں طلبہ کو پھل، سبزیاں استعمال کرنے اور فاسٹ فوڈز سے پرہیز کی ہدایت دی گئی، جس کے نتیجے میں ان میں ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی اور خوشی کے احساس میں اضافہ دیکھا گیا۔
بعد ازاں، جرمنی اور فرانس میں ہونے والی تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کی۔ماہرین کے مطابق سلاد میں موجود اہم معدنیات دل و دماغ پر فوری اور مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔
سلاد میں پھلوں اور کچی سبزیوں کے ذریعے حیاتین اور معدنی نمکیات حاصل ہوتے ہیں۔یہ خوش ذائقہ، ہلکی اور جلد ہضم غذا ہے، جس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔سلاد متوازن غذا کا اہم جزو ہے اور موسم کے مطابق اس کے اجزاء میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
سبز پتوں والی سبزیاں جیسے کچی مولی بھوک بڑھاتی ہے اور جگر کے امراض، یرقان، بواسیر اور قبض میں مفید ہے۔کچی گاجر فائبر اور حیاتین الف سے بھرپور ہے، نظر کے لئے مفید، رنگت صاف اور خون کی کمی دور کرتی ہے۔اگر شلجم پتوں سمیت استعمال کیا جائے، تو کیلشیم اور حیاتین کا بہترین ذریعہ ہے، کھانسی میں مفید ہے۔چقندر جسمانی کمزوری دور کرتا، خون بناتا اور دل کے لئے مفید ہے۔
ٹماٹر، کیلشیم اور فولاد فراہم کرتا ہے۔ہڈیوں اور مسوڑھوں کو مضبوط بناتا ہے اور قبض دُور کرتا ہے۔پودینہ معدے کے امراض میں مفید ہے۔بھوک بڑھاتا ہے اور متلی میں آرام دیتا ہے۔پیاز جراثیم کش ہے، خون کی شریانوں کو کھولتا ہے اور قبض رفع کرتا ہے۔
اسی طرح سبز دھنیا سلاد کو خوش ذائقہ بناتا ہے، معدے کی حرارت کم کرتا ہے اور حیاتین الف کی کمی دور کرتا ہے۔
ادرک ہاضم ہے، ریح ختم کرتی ہے۔نیز، کھانسی، زکام اور جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔کھیرا پیشاب کی جلن کم اور گرمی کے اثرات زائل کرتا ہے۔پالک حیاتین الف سے بھرپور ہونے کی وجہ سے نظر کے لئے مفید ہے۔لہسن کا استعمال بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کم کرتا ہے، نیز یہ جراثیم کش بھی ہے۔غذائی اجزاء سے بھرپور سلاد دوپہر کے کھانے سے پہلے کھائیں، تو مجموعی صحت پر اس کے مثبت اثرات دُگنے مرتب ہوتے ہیں۔
