نینو نیگل ، پریزینٹیشن کانونٹ سکُول اور یومِ آزادی

تحریر :امجد بٹ ۔ مری
یہ حقِیقت کِسی دلِیل کی محتاج نہِیں کہ باغِ عدن سے لے کر جبلِ جُودی تک ، خانۂ کعبہ کی تعمِیر سے کوہِ طُور تک اور واقعہ صلِیب سے غار حِرا تک کے واقعات ہمیں اِنسانیت کے اِبتدائی محسنوں کی یاد دِلاتے ہیں اِسی طرح زہر کا پیالہ ، داس کیپِیٹل ، لانگ مارچ ، اِنقلابِ فرانس ، تحرِیک ریشمی رُومال ، جامعہ دیوبند ، جامعہ علیگڑھ ، جامعہ ندوۃ العلماء ، خاکسار تحرِیک ، قیامِ پاکِستان ، 1973ء کا آئین ، عالمگِیر اسپرانتو تحرِیک ، 11 فروری تہاڑ جیل ، 28 مئی کا ایٹمی دھماکہ جیسے واقعات کُتب اور تحرِیکیں ہمیں اپنے اپنے زمانوں کے مُطابِق فِکری زاویوں کا رُخ موڑنے والی شخصیات کا تعارف کرواتی ہیں ۔
1775ء میں پریزینٹیشن کانونٹ گروہ کا قیام بھی ہمیں ایک ایسی ہی تارِیخ ساز شخصِیّت اور تعلِیمی تحرِیک کا تعارف کرواتا ہے ۔
محترمہ نینو نیگل جیسی کھلنڈری ، شرِیر ، چنچل اور بے باک لڑکی 1718ء میں Cork Country (Ballygriffin) آئرلینڈ میں پیدا ہُوئی ۔ اُس وقت کے مُلکی قوانِین کے مُطابِق کیتھولک بچّے تعلِیم سے مُستفِیض ہونے کا برابر حق نہِیں رکھتے تھے لہٰذا نینو کو گھر کے قرِیب کھنڈرات اور جھاڑیوں میں بیٹھ کر پڑھنا پڑتا ۔ یہاں اُس کا دِل نہیں لگا ، والدین نے اُسے حصُولِ تعلِیم کے لئے فرانس بھیج دِیا ، جہاں وہ رُومان پرور ماحول میں کھوئی رہی ۔ والدین اور چھوٹی بہن “این” کی رحلت کے بعد وہ 1747ء میں اپنے بھائی ڈیوِڈ کے پاس واپس آئرلینڈ آ گئی ۔ اُس کو فرانس میں قلبی اِطمینان نصِیب نہ ہُوا ۔ وہ اب اپنے لوگوں کی خِدمت کرنا چاہتی تھی لیکن کیتھُولک مسِیحیوں کو پروٹسٹنٹ مسِیحی اشرافیہ کے بنائے گئے کالے قوانِین کے مُطابِق عوامی خِدمت کا آزادانہ حق حاصِل نہ تھا ۔ اُس نے خُفیہ طور پر جھونپڑی میں ایک سکُول قائم کِیا ۔ وہ رات گئے لالٹین لے کر غرِیبوں کو ڈھُونڈ کر تعلِیم کے لئے قائل کرنے نِکلتی ۔ بچّوں کی تعداد 200 ہونے پر اپنے بھائی ڈیوِڈ اور دُوسرے ہمدردوں کی مدد سے رفتہ رفتہ سکُولوں کی تعداد بڑھتی گئی ۔ طوِیل عرصے کی لگاتار جِدوجہد سے سات سکُول قائم ہو گئے ۔ مالی مُشکلات کے دور میں سکُول کے بچّوں کی تعلِیم جاری رکھنے کے لئے نینو نے بھِیک بھی مانگی ۔ لوگ اُسے بُوڑھی بھِکارن کہنے لگے ، لیکِن اُس نے کبھی مایُوسی اور اُداسی کا اِظہار نہ کِیا (She never Complained) اب اُس کا طرزِ زِندگی سادہ اور معصُومانہ تھا ۔ اُس نے اپنی زِندگی کو غرِیبوں کی تعلِیم اور فلاح و بہبُود کے لئے وقف کر لِیا تھا ۔ اُس وقت کی راہبات (Nuns) عام لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر تجرّد کی زِندگی گُزارنا پسند کرتی تھِیں ، اِس لئے نینو نیگل نے 1775ء میں “پریزینٹیشن کانونٹ” کے نام سے ایک الگ گروہ بنا لِیا ۔ نو برس تک پھیپھڑوں کا مرض اور ساری زِندگی زمانے کی اذِیّتوں کو سہنے والی چھیاسٹھ برس کی عُمر میں 26 اپریل 1784ء کو دُوسروں سے پیار اور غرِیبوں کے لئے جِینے کا پیغام چھوڑ کر Cork میں اپنے خالقِ حقِیقی کے پاس ابدی زِندگی کے لئے مُنتقِل ہو گئیں ۔
آج سے اڑھائی سو برس قبل آئرلینڈ بھی 1947ء والے پاکِستان کی طرح پسماندگی اور جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈُوبا ہُوا تھا۔ ہر چِیز اور قدر کا معیار دولت تھی ۔ اخلاقیات ، مذہب ، سیاست اور تعلِیم صِرف دولت سے خرِیدی جا سکتی تھی ، لیکن آج یہی خِطہ خُوشحال مُلکوں کی فہرِست میں شامِل ہے اور شعبۂ تعلِیم کو دُنیا میں سب سے پہلے بحیثِیت سائنس تسلِیم کروانے والی یہی قوم ہے ۔ آئرش قوم کے دانِشوروں اور قومی راہنُماؤں نے فوج کی بجائے تعلِیم کے ذریعے اپنے مُلک ، قوم اور نظریاتی و تہذِیبی سرحدوں کی حِفاظت کی ہے اور اِنہی دانِشوروں میں محترمہ نینو نیگل کا نام سرِ فہرِست ہے ۔ اُس نے اپنی زِندگی ایک راہبہ کی حیثیت سے پُوری دُنیا کے بچّوں کی تعلِیم اور غرِیبوں کی مدد کے لئے وقف کر دی ، مسِیحیت کی تبلِیغ کے لئے نہِیں بلکہ کِسی مذہبی تعصّب کے بغیر دُنیا سے جہالت کا اندھیرا دُور کرنے کے لئے ۔ جو کام بڑی بڑی حکُومتیں ، یُونِیورسِٹیاں اور تعلِیمی اِدارے نہ کر سکے وہ نینو نیگل اور اُس کی اُن عظِیم اور جُرأت مند ، مِشنری ساتھیوں نے کر دِکھایا جو معصُوم ذہنوں میں عِلم کی شمع روشن کرنے اور مُعاشرے سے ذہنی جہالت دُور کرنے کا عزم رکھتی تھِیں ۔ آپ نے راہبات کے بارے میں یہ تو سُن رکھا ہے کہ وہ اپنی زِندگی مسِیحیت کی تعلِیمات کی عملی تروِیج کے لئے وقف کر دیتی ہیں اور شادی تک نہِیں کرتِیں عام لوگوں کا خیال ہے کہ اولاد کے بغیر اِن کی کیا پہچان باقی رہ جاتی ہے ؟
اُستاذ اِبراہِیم ذوق نے ایسے ہی حالات کے پیشِ نظر کہا تھا :

رہتا سُخن سے نام قیامت تَلَک ہے ذوق
اولاد سے تو ہے یہی دو پُشت چار پُشت

نینو نیگل کی کوئی جِسمانی اولاد نہِیں ہے لیکن دُنیا بھر کے 24 مُمالک میں سینکڑوں کانونٹ سکُول ، اُن میں موجُود زیرِ تعلِیم لاکھوں طالبات اور ہزاروں سِسٹرز کیا نینو نیگل کی پہچان بننے کے لئے کافی نہِیں ہیں ۔
لیکِن ایسی راہبات جو خُود کو جہالت جیسی عالمی بِیماری کے خاتمے کے لئے وقف کریں اُس کی ایک عملی مِثال ہم نے سکُولِ ہذا کی سابق پرِنسپل محترمہ سِسٹر جُولی واٹسن کی صُورت میں دیکھی ہے ، جِن کے تدرِیسی اور کِرداری اوصاف الگ مقالے کے مُتقاضی ہیں البتّہ چند جُملوں میں اِتنا عرض ضرُور کروں گا کہ محترمہ نے بچّوں کے ساتھ ساتھ والدین میں تعلِیم کی اہمیّت اور حصُولِ عِلم کی مسابقت کا جذبہ اُجاگر کِیا ۔ اُنہوں نے نہ صِرف اِس ادارے کے اساتذہ کو پڑھانے کا فن سِکھایا بلکہ طلباء و طالبات کو تعلِیم کے ذریعے عالمی معاشرے میں مُقابلے کے لئے جِینے کا ڈھنگ سِکھایا ۔
تدرِیس کا یہ عَلَم اب سِسٹر فرزانہ کے ہاتھوں میں ہے اور موجُودہ تعلِیمی نتائج ثابت کر رہے ہیں کہ اُن کی پوری ٹِیم نے سکُول کے تعلِیمی معیار پر کبھی سمجھوتہ نہِیں کِیا ۔
دُنیا کے پانچ برِاعظموں کے چوبِیس مُمالک میں دو ہزار سِسٹرز پریزینٹیشن کانونٹ کا نِظام چلا رہی ہیں ۔ صِرف آئرلینڈ یعنی اپنے مرکز میں باسٹھ کانونٹ سکُول پندرہ سو سِسٹرز چلا رہی ہیں ۔
1775ء میں محترمہ نینو نیگل نے
Sisters of the presentation of blessed virgin Mary
(PBVM)
نامی ایک مذہبی جماعت کی بُنیاد رکھی ، جسے 1800ء میں پوپ ہفتم نے مُستند مذہبی تنظِیم کا درجہ دِیا ۔ 1842ء میں یہ راہبات برِصغِیر پہنچِیں ۔ 1895ء آٹھ ستمبر کو تِین آئرش سِسٹرز
1- Mother Ignatius McDermott ,
2 – Sr . Evangelist Coats worth
3 – Sr – Xavier Lonergan.
مدراس سے راولپنڈی پہنچِیں اور یکم اکتُوبر 1895ء کو لالکُڑتی راولپنڈی میں پہلا پریزینٹیشن کانونٹ سکُول کھولا گیا ۔ 15 فروری 1896ء کو اِسے سرکاری طور پر تسلِیم کِیا گیا جہاں 1938ء میں میٹرک کے بعد کی کلاسِز شُرُوع ہُوئیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر شاہدہ ملِک اور سابق امرِیکی سفِیر ڈاکٹر ملِیحہ لودھی یہاں سے تعلِیم یافتہ ہیں ۔ 19 تا 24 مُمالک میں اِس کی برانچیں ہیں جبکہ پاکِستان کے چودہ شہروں ( راولپنڈی ، مری ، جہلم ، پشاور سرگودھا ، واہ ، رِسالپُور ، مینگورہ “سوات” ، حسن ابدال ، خُوشآب ، ٹنڈُو اللّٰہ یار ، کھپرُو اور ٹنڈُو آدم) میں تیرہ ہزار سے زائد طالِبات زیرِ تعلِیم ہیں ۔ کانونٹ کا سب سے بڑا سِلسِلۂ تعلِیم پاکِستان میں ہے ۔
Roman Catholic Dioceses of Islamabad / Rawalpindi.
کے تعلِیمی بورڈ کے تحت پریزینٹیشن کانونٹ سکُول مری 1917ء کو وجُود میں آیا تھا ، یہی سکُول 1920ء میں ایک بڑی آگ کی لپیٹ میں آ گیا ، جب مقامی لوگوں نے نہ صِرف اِس کا فرنِیچر آگ سے محفُوظ کر لِیا بلکہ دوبارہ تعمِیرات بھی کروائیں ۔ اب اِس سکُول میں گیارہ سو طالِبات بیالِیس اساتذہ کی نِگرانی میں زیر تعلِیم ہیں ۔ اہلِ مری اور پُورے وطن کی اکثریت جانتی ہے کہ پرائمری تعلِیم کے لئے اِس سے بہتر کوئی اِدارہ موجُود نہِیں ہے جہاں داخلے کے لئے سابق وزیرِ اعظم ذُوالفِقار علی بھُٹّو کی سفارش بھی نہ چل سکی تھی ۔
اِس معرُوف تعلِیمی اِدارے کو ستانوے برس کے بعد 2014ء میں حکُومتِ پنجاب نے تارِیخی ورثہ قرار دِیا تھا ۔ بین الاقوامی جرائد میں سابق وفاقی وزِیر شہزادہ جمال ناصر اور پشاور یُونِیورسِٹی کے وائس چانسلر اعظم حیات خان یہاں زیرِ تعلِیم رہ چُکے ہیں ۔ سِسٹر جُولی واٹسن کے دور 1990ء کی دہائی کے دوران یہاں سائنس لیب ، کمپیُوٹر لیب اور لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا۔
نینو نیگل کا لگایا گیا پودا آج ثمر بار ہو چُکا ہے ، جِس میں مُنعقد ہونے والی تقارِیب اِس اِدارے کی نِصابی اور ہم نصابی سرگرمِیوں کی صُورت میں اساتذہ و دِیگر عملے کی کوشِشوں کا واضح ثبُوت ہوتی ہیں ۔ اِسی سِلسِلے کی ایک تقرِیب کا آنکھوں دیکھا حال قارئِین کی نذر ہے ۔
اِس بار 14 اگست 2026ء کے موقع پر ایک پُروقار تقرِیب کا اِنعقاد کِیا گیا جِس کو ذُونیرہ طاہر کی “راولپنڈی تعلِیمی بورڈ” (میٹرک) میں کُل 1200 میں سے 1180نمبروں کی شاندار کامیابی نے چار چاند لگا دِیئے ۔ تقرِیب کی صدارت سٹیشن کمانڈر برِیگیڈئیر ‘ احمد نواز نے کی جبکہ مہمانِ خصُوصی ڈی پی او ضلع مری ڈاکٹر مُحمّد رضا تنوِیر سِپرا تھے ۔ فادر ٹوم ، فادر عدنان اور سکُولِ ہذا کے سابق سٹاف نے بھی مہمانِ اعزاز کے طور پر شِرکت کی ۔
تفصِیلات کے مُطابِق پرِنسِپل سِسٹر فرزانہ نے تقرِیب کے اِفتتاحی کلمات میں کہا کہ ہم افواجِ پاکِستان کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی قُربانیوں کا بھی اعتراف کرتے ہیں ، جِن کی مُسلسل جِدوجہد سے تعلِیمی میدان میں پریزینٹیشن کانونٹ سکُول کو ضِلع مری میں اوّل اور راولپنڈی تعلِیمی بورڈ ، (سائنس گرُوپ لڑکیوں میں اوّل) جبکہ مجمُوعی طور پر بورڈ میں سیکنڈ پوزِیشن حاصِل ہُوئی ۔ ہم گھوڑا گلی کے دُور اُفتادہ دیہات (ملوٹ) کی ذُونیرہ طاہر کے والدین کی خِدمات اور قُربانیوں کو بھی نظر انداز نہِیں کر سکتے ۔
کانونٹ سکُول کو دو دہائیوں سے مہمانِ اعزاز جناب ایّاز غنی کی صُورت میں ایسے مُعاون سرپرست مِلے ہیں جو نہ صِرف حقدار اور زِیرک بچّوں کی تعلِیم کا ذریعہ بنتے ہیں بلکہ بورڈ میں شاندار کامیابی پر اساتذہ کی محنت کے اعتراف میں پُرتعیّش ظہرانہ بھی دیتے ہیں ۔ تِینوں مرکزی مہمانوں کو سکُول کی طرف سے کشمِیری شالیں تحفتہً پیش کی گئیں ۔
قومی ترانے کے پس منظر میں پرچمِ پاکِستان کو ہوا میں بُلند کرتے وقت سٹیشن کمانڈر کی معیّت میں سکُول کی طالِبات ، سٹاف اور حاضرِین نے اِتنے نظم و ضبط اور وقار کا مُظاہرہ کِیا کہ فخر و اِنبساط کا سماں بندھ گیا ۔
قائد کے نظریات اور تعلِیماتِ اِقبال پر مبنی نُور الھُدیٰ کی پُروقار انگریزی تقرِیر ، جماعت نہم کا چاروں افواج کے لِباس میں مِلّی ترانہ ، وطنِ عزِیز کی تمام تہذِیبوں کے لِباس ، ثقافتی و صُوفی شعراء ( شاہ شمس ، وارث شاہ بُلّھے شاہ وغیرہ) اور ثقافتی داستانوں (ہِیر رانجھا ، سسّی پُنُّوں ، لیلیٰ مجنُوں ، شِیرِیں فرہاد ) اشفاق احمد اور ہم عصر ادِیبوں کی بھرپُور نُمائندگی نظر آئی ۔ حاضرِین نے پُورے پاکِستان کی معرُوف دِینی و سیاسی شخصیات مُحمّد علی جِناح ، اِقبالؒ ، مُحمّد علی جوہر ، رعنا لیاقت علی ، چاروں صُوبوں اور ہِجرت کے تارِیخی واقعات کی جھلک اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لی ۔ جماعت ہفتم ، ہشتم نے پاکِستان میں موجُود تمام اقلیتی کارکُنوں کو بطور نمُونۂ یکجہتی پیش کِیا ۔ سیلاب و زلزلے جیسے مصائب میں فوج کے اِمدادی کِردار کو ٹیبلو کی صُورت میں پیش کِیا ۔ جماعت اوّل ، سوم ، چہارم کے فوجی و ثقافتی گِیتوں پر مبنی ٹیبلو اور سِسٹر شازیہ کی نِگرانی میں طالِبات کے کتھک ناچ نے سماں باندھ دِیا ۔
ذُونیرہ طاہر کی راولپنڈی تعلِیمی بورڈ میں نُمایاں کارکردگی (دوم) پر صدرِ محفِل سٹیشن کمانڈر احمد نواز ، مہمانِ خصُوصی ڈی پی او ڈاکٹر رضا تنوِیر سِپرا اور پرِنسِپل سِسٹر فرزانہ نے طالبہ کو شِیلڈ ، سرٹِیفِیکیٹ اور نقد اِنعام سے نوازا ۔ سٹیج سے واپسی پر ذُنیرہ طاہر کی والدہ نے اُس کا ماتھا چُوم کر اِستقبال کِیا تو اعترافِ قابلِیّت کے اِس لمحے کو دِل و دماغ میں محبّت سے محفُوظ کر لِیا گیا ۔
ڈاکٹر رضا تنوِیر نے اپنے خِطاب میں کہا کہ اگرچہ میں پہلی بار یہاں آیا ہُوں لیکِن مُجھے مِلنے والے ہر شخص نے کانونٹ کی بے لوث تعلِیمی خِدمات سے آگاہ رکھا ہے ۔ اِن اساتذہ کے مِشنری جذبۂ تدرِیس اور طالِبات کی قابلِیّت دیکھ کر یقِین سے کہہ سکتا ہُوں کہ ہمارے وطن کا مُستقبِل محفُوظ ہاتھوں میں ہے ۔
صدرِ محفِل ، مہمانِ خصُوصی ، پرِنسِپل ، فادر ٹوم ، فادر عدنان اور سِسٹرز نے یومِ آزادی کا کیک کاٹ کر تقرِیب کو مزِید دِلکش بنا دِیا ۔
صدرِ محفِل سٹیشن کمانڈر احمد نواز نے کہا کہ کانونٹ کی تقارِیب میں مُجھے تِیسری بار اِس اعزاز سے نواز کر سکُول کی شاندار تعلِیمی خِدمات کے اعتراف کا موقع دِیا گیا ہے ۔ پاکِستان کے سِوا دُنیا کا کوئی ایسا نظریاتی مُلک نہِیں جو زِندگی کے ہر میدان میں مصائب کا مردانہ وار مُقابلہ کرتے ہُوئے ترقّی پذِیر ہو ۔ وطنِ عزِیز کے دِفاع کے لئے ہم محدُود وسائل میں بہترِین خِدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ ہم ترقّی پذِیر ہونے کے باوجُود ہر میدان میں خُود کو منوا رہے ہیں ۔ بہت جلد کانونٹ کی یہ بیٹیاں اور دِیگر اِداروں کے طلباء و طالبات پاکِستان کو پہلے سے زیادہ ترقّی دیں گے ۔
مہمانوں اور سٹاف کے گرُوپ فوٹو کے بعد شُرکاء کی کھانے سے تواضع کی گئی لیکِن یہ آخری لمحہ راقم کی زِندگی کا حیران کُن اور یادگار لمحہ بن گیا جب نہ صِرف درجہ چہارم کے مُلازمِین کو مرکزی مہمانوں کے قرِیب کھانا کھاتے دیکھا گیا ، بلکہ سکُول کی پرِنسِپل دفتری سٹاف ، سِسٹرز ، اور اساتذہ تمام مہمانوں کو کھانا کھِلانے میں مصرُوف رہے ۔ میری آنکھوں کے سامنے اِن سِسٹرز کی صُورت میں مرحُومہ نینو نیگل اور سِسٹر جُولی واٹسن جیسی نادرۂ رُوزگار شخصیات گھُوم رہی تھِیں جِن کا مِثالی کِردار ، عام لوگوں کے بچّوں کے لئے تعلِیم اور غرِیبوں سے ہمدردی کا مِشنری جذبہ آج بھی سِسٹر فرزانہ ، سِسٹر ایلِش ہینی ، سِسٹر شازیہ اور سِسٹر پرسِکلا کی صُورت میں ہمارے سامنے تھا ۔

احمد فراز کے معروف شعر کا یہ مِصرع اِن حالات کی کیا خُوب نُمائندگی کر رہا ہے ۔

“منصُور کے پردے میں خُدا بول رہا ہے ” ۔

اِن حالات میں اِس خیال کی توثِیق ہو جاتی ہے کہ تعلِیم اور صحت پراپرٹی ڈِیلروں کا نہِیں صِرف مِشنری لوگوں کا ورثہ ہے ۔
پریزینٹیشن کانونٹ کی اِس شاندار تارِیخ کے باوجُود آج جو تحفظات جنم لے رہے ہیں ، اُن میں سب سے اہم یہ ہے کہ مذہبی و قومی لحاظ سے غیر جانِبدار اور مِشنری جذبۂ خِدمت سے معمُور راہبات بننے کا جذبہ اب اِنتہائی زوال کا شِکار ہے ، بلکہ اب تو دُنیا بھر سے نئی بننے والی راہبات چند برس تک اپنی زِندگیاں رضاکارانہ طور پر غرِیبوں کی خِدمت اور تعلِیم عام کرنے کے لئے وقف کرتی ہیں اور بعد میں دُنیاوی زِندگی کے مُطابِق شادیاں کر لیتی ہیں ۔
صِرف چند ہزار عُمر رسِیدہ راہبات کے دُنیا سے رُخصت ہو جانے کے بعد کیا ہماری دُنیا کی تعلِیم اَخلاقی تربِیّت سے عاری مصنُوعی ذہانت اور سرمایہ دارانہ مُعاشی نِظام کی دستِ نگر بن کر رہ جائے گی ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں