انڈین وزیر تعلیم کا استعفٰی

انڈین وزیر تعلیم کا استعفٰی

تحریر :ادیب یوسفزئی
تب اڈیشہ میں کانگریس کی حکومت تھی۔ دھرمیندر پردھان اس وقت آر ایس ایس سے جڑے طلباء تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے سیکرٹری تھے۔ 1997 میں جب اڈیشہ میں پیپر لیک ہوئے تو اس کے خلاف طلباء سڑکوں پر نکل آئے۔ دھرمیندر پردھان نے خود تقریباً 1500 طلباء کے ساتھ بھونیشور میں ریاستی سیکرٹریٹ کی جانب مارچ کی قیادت کی۔
یہ احتجاج پرامن تھا لیکن پولیس نے سختی سے نمٹتے ہوئے لا۔ٹھی چارج کیا جس میں دھرمیندر پردھان شد۔ید زخمی ہوئے اور ان کی ہڈیاں بھی ٹوٹیں۔ آج تین دہائیوں بعد وہی شخص ایک پیپر لیک سکینڈل پر استعفیٰ دے بیٹھا ہے اور وہ بھی اس حکومت میں جس میں آج تک کسی مرکزی وزیر نے استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ 1997 میں ان کے مطالبات تھے کہ پیپر لیک میں ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور امتحانی نظام میں شفافیت اور بہتر انتظامات کیے جائیں۔ تاہم اس بار طلباء وزیر تعلیم کے استعفیٰ پر اڑے رہے۔۔۔
یہ استعفیٰ میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ میں بے ضابطگیوں اور پیپرز لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ احتجاج 6 جون 2026 کو انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر شروع ہوا تھا اور اس میں ملک بھر کی طلباء تنظیموں نے شرکت کی۔ انڈیا کے معروف تعلیمی و ماحولیاتی ایکٹوسٹ سونم وانچک نے 28 جون سے احتجاج کی حمایت میں غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال بھی شروع کر دی تھی جس نے تحریک کو مزید تقویت دی۔ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلیں۔
اب ان تمام طلباء کا احتجاج رنگ لے آیا ہے۔ ز۔خم کھائے لیکن کامیاب بھی ہوئے۔ اپنے بیان میں دھرمیندر پردھان نے کہا کہ وہ گزشتہ دس دنوں کے دوران دارالحکومت اور ملک بھر میں جاری طلباء احتجاج پر دلی طور پر دکھی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس امتحان کی تحقیقات وفاقی تفتیشی ادارے کے حوالے کر دی گئی تھیں اور 21 جون 2026 کو دوبارہ امتحان کامیابی سے منعقد ہوا جس کے نتائج 16 جولائی کو جاری کیے گئے۔
یہ تحریک ایک طنزیہ سیاسی موومنٹ(کاکروچ جنتا پارٹی) کی قیادت میں شروع ہوئی تھی جو بعد میں ملک گیر طلباء تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے چند ہی گھنٹوں بعد اس تحریک سے وابستہ کارکنان نے اعلان کیا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات مان لیے ہیں اور 37 دن سے جاری دھرنا فوری طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔ تحریک کے ترجمان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے تین بنیادی مطالبات تسلیم کیے ہیں:
1۔ وزیرِ تعلیم کا استعفیٰ
2۔ دارالحکومت دہلی سمیت حکمران جماعت کی زیر اقتدار ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کی واپسی
3۔ خودکشی کرنے والے متاثرہ طلباء کے اہل خانہ کے لیے معقول معاوضہ

اس استعفیٰ کے بعد موجودہ وفاقی وزیر دفاع کا 24 جون 2015 کا ایک پرانا بیان دوبارہ زیر بحث ہے جس میں انہوں نے کہا تھا ‘وزیروں کے استعفیٰ نہیں ہوتے بھیا، یہ اپوزیشن کی سرکار نہیں ہے یہ موجودہ حکمران اتحاد کی سرکار ہے۔’ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ موجودہ وزیر اعظم کی حکومت کے 12 سالہ دور اقتدار میں کسی بھی مرکزی وزیر کا پہلا استعفیٰ ہے۔ اسی وجہ سے یہ پرانا بیان سوشل میڈیا پر دوبارہ گردش کر رہا ہے۔ خود کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بھی استعفیٰ کی خبر سنتے ہی یہ جملے بولے ‘کیا کہتے تھے یہ ؟ کہ اس سرکار میں استعفے نہیں ہوتے؟ ہم کہتے ہیں کہ جھکتی ہے دنیا۔۔ جھکانے والا چاہیے۔۔’
جب مطالبات ایک ہوں۔ صفیں منتشر نہ ہوں اور تحریک کسی ایک شخصیت کی بجائے واضح، مشترکہ اور عوامی مطالبات پر قائم رہے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی گھٹنوں پر آجاتی ہے۔ اس تحریک کی سب سے نمایاں خوبی یہی رہی کہ اس نے سیاسی جماعتوں کی چپقلش سے خود کو الگ رکھا اور کسی ایک رہنما یا شخصیت کی پرستش میں نہیں الجھی بلکہ ایک واضح، قابل فہم اور سب کے لیے قابل قبول مطالبے پر متحد رہی۔ مجھے لگتا ہے کہ یہی وہ عنصر تھا جس نے مختلف طلباء تنظیموں، سیاسی مخالفین اور عام شہریوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تھا۔ آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ اس احتجاج کی اکثریت سیاسی طور پر کافی سمجھدار تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ کیا بولنا ہے اور کیسے بولنا ہے؟ وہ تاریخی حوالے دے کر بات کیا کرتے تھے۔۔ جبکہ ہمارے ہاں اکثر شخصیت پرستی میں ڈوبے نعرے اور شدید مخالفت پر مبنی نعرے ہی ہوتے ہیں۔۔ اگر یہاں بھی سیاسی بالغ جین زی ایسا سوچنا شروع کرے تو کیا نہیں ہوسکتا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں