akhtar

کیا ایران پر ملائیت مسلط ہے ؟

تحریر : اختر اورکزئی , بوسٹن
ہمارے ہاں جدت و ماڈرن ازم کا اک ثبوت یہ بھی مانا جاتا ہے کہ آپ مذہب، اور مذہبی لوگوں سے نفرت کریں اور انہیں دقیانوسیت سے جوڑیں۔یہی معیار ہم ایران پر بھی لاگو کرتے ہیں کہ ایران کو اس ملاازم نے تباہ کردیا ۔ یعنی حکم ران عمامہ پہنتے ہوں، مذہب کی زبان بولتے ہوں اور مغرب کے ہر مطالبے پر سر جھکانے سے انکار کردیں تو پورے نظام کو ’’ملائیت‘‘ قرار دے دیجیے۔ اس کے بعد مہنگائی، بے روزگاری، خشک سالی، عالمی پابندیاں، منجمد اثاثے، بند بینکنگ نظام اور بیرونی حملے، سب کچھ ملائیت کے کھاتے میں ڈال دیں اور منصف کہلائیں ۔۔۔!
دوسری طرف اگر کوئی ملک قرضوں پر چل رہا ہو، اس کے بجٹ کی سانس آئی ایم ایف کی اجازت سے بحال ہوتی ہو، اس کی خارجہ پالیسی بیرونی اشاروں کی محتاج ہو اور اس کے حکم ران چند ارب ڈالر کے قرض پر قوم کو مبارک باد دیں تو اسے شعوری سیاست کہیں ۔
میں ایران کے پاوں نہیں دھو رہا ، وہاں مہنگائی، بے روزگاری، کرنسی کی بے قدری، سیاسی پابندیاں، پانی اور توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مسائل موجود ہوسکتے ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ہر ملک میں ہوتے ہیں ،لیکن ان کم زوریوں کی بنیاد پر ایران کو جاہل، ناکام اور ملاؤں کے ہاتھوں تباہ شدہ ملک قرار دینا بھی تاریخ اور اعداد و شمار، دونوں کی توہین ہے۔
ایران میں شرح خواندگی تقریباً 99 فیصد ہے ، اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح قریبا 59 فیصد اور اوسط عمر تقریباً 78 سال ہے۔ انسانی ترقی کے عالمی اشاریے میں ایران پہلے اسّی ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان شرح خواندگی تقریباً 63 فی صد، اعلیٰ تعلیم تک رسائی نہایت محدود اور انسانی ترقی کے اشاریے میں 168 ویں نمبر پر۔ کروڑوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ بدنظمی ، ملاوٹ، بدعنوانی ، جھوٹ ، نفرت ومنافرت ، رشوت، بدامنی اور بے انصافی اس پر مستزاد ۔
1990 کی دہائی کے آخر میں ایرانی سائنسی محققین نے تقریباً ایک ہزار تحقیقی مقالے سالانہ شائع کئے جو بڑھتے بڑھتے پچاس ہزار سالانہ سے تجاوز کرگئی۔ طب، انجینئرنگ، کیمیا، نینو ٹیکنالوجی اور زرعی علوم میں ایران مسلم دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔
ایران دنیا کے دس بڑے فولاد ساز ممالک میں شامل ہے۔ اس کی خام فولاد کی سالانہ پیداوار پاکستان سے سات گنا سے زیادہ رہی ہے، حال آں کہ اس کی آبادی پاکستان کی نصف سے بھی کم اور اس کا بینکنگ، بیمہ، تیل اور بین الاقوامی تجارت کا نظام دہائیوں سے پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے۔
وہ گاڑیاں، ٹربائنیں، صنعتی مشینری، ادویات، ڈرون اور سیٹلائٹ بناتا ہے۔ یہ دعویٰ نہیں کہ ہر چیز عالمی معیار کی ہے یا ہر پرزہ مقامی ہے، مگر اس نے اتنی صنعتی بنیاد ضرور قائم کرلی ہے کہ محاصرے کے باوجود ریاست کا پہیہ چلتا رہے۔
ایران اپنی عام ادویاتی ضرورت کا بہت بڑا حصہ مقامی طور پر تیار کرتا ہے۔ دیہی علاقوں تک بنیادی مراکز صحت کا ایسا نظام قائم کیا گیا جس نے ویکسین، زچہ و بچہ کی نگہداشت اور بیماریوں کی روک تھام کی خدمات عام لوگوں تک پہنچائیں۔ اسی لیے ایران میں متوقع عمر اور صحت کے اشاریے پاکستان سے کہیں بہتر ہیں۔
خود انحصاری کا مطلب یہ نہیں کہ ملک سوئی سے جہاز تک ہر چیز خود بنائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن بندرگاہ بند کردے تو قوم اگلی صبح بھوکی نہ اٹھے، بینکنگ نظام روک دے تو اسپتال فوراً بند نہ ہوجائیں، ادویات روکی جائیں تو متبادل پیداوار موجود ہوں، اور اسلحہ دینے سے انکار کردیا جائے تو ریاست اپنی سرحدیں دوسروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دے۔
روزگار کے معاملے میں ایران کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ نوجوانوں کی بے روزگاری، مہنگائی، باصلاحیت افراد کی نقل مکانی اور خواتین کی کم معاشی شرکت سنگین مسائل ہیں۔ حکومت سے پوچھنا چاہیے کہ اتنے وسائل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے باوجود بہتر مواقع کیوں پیدا نہ ہوسکے۔
مگر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ایران کسی معمول کی عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کررہا۔ اس کے مرکزی بینک، تیل، صنعت، جہاز رانی، بیمہ اور بین الاقوامی ادائیگیوں پر پابندیاں عائد رہی ہیں۔ کسی دوڑنے والے کے ہاتھ باندھ کر اسے میدان میں اتارا جائے اور پھر اس کی رفتار پر طنز کیا جائے تو یہ تجزیہ نہیں، تماشائی کی بددیانتی ہے۔
ایرانی پارلیمان کو اکثر ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے چند سو عمامہ پوش افراد بیٹھے وظائف پڑھ رہے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی امیدوار کے لیے عموماً ماسٹر ڈگری یا اس کے مساوی تعلیم شرط ہے۔ وہاں ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، ماہر قانون، سابق منتظمین اور علما سب موجود ہوتے ہیں۔ کم از کم ہم پاکستانیوں کو ان کی سیاست پر اعتراض کرنا نہیں بنتا۔ جہاں سیاسی جماعتیں گھریلو جاگیر میں بدل گئی ہیں۔ باپ کے بعد بیٹا، بھائی کے بعد بھائی، پھر بیٹی، داماد یا بھتیجا۔ اگر خاندان میں کوئی سنجیدہ اور تجربہ کار شخص دستیاب نہ ہو تو سیاسی گھونسلے سے کسی بچے کو نکال کر قوم کی نئی نسل کے سر پر بٹھا دیا جاتا ہے۔
کارکن ساری زندگی نعرے لگاتا، جیل جاتا اور جلسوں میں کرسیاں لگاتا ہے، مگر قیادت کا حق خاندان کے بچے کو ملتا ہے۔ وہ بیرون ملک تعلیم مکمل کرکے لوٹتا ہے، چند لکھی ہوئی تقریریں پڑھتا ہے اور اشتہار لگ جاتے ہیں: قوم کی امید، نوجوانوں کی آواز، مستقبل کا معمار۔ گویا کسی عظیم سرجن کا بیٹا پیدائشی طور پر آپریشن کرنے کا اہل ہوجاتا ہے۔
ہم ایران کے مذہبی طبقے کو ملائیت کا طعنہ دیتے ہیں، مگر اپنے سیاسی سجادہ نشینوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہتے ہیں۔ وہاں مذہبی وراثت پر سوال اٹھاتے ہیں، یہاں سیاسی گدی نشینی پر تالیاں بجاتے ہیں۔ وہاں عمامہ دیکھ کر جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے، یہاں پارٹی کا تاج خاندان کے بچے کے سر پر رکھا جائے تو اسے جمہوری تسلسل کہا جاتا ہے۔
ہماری اسمبلیوں میں گالم گلوچ، ذاتی حملے، میزیں بجانا اور ایک دوسرے کو گھسیٹنے کی دھمکیاں عام ہیں۔ جو زبان بعض ارکان استعمال کرتے ہیں، کسی نچلے درجے کے اسکول کے بدتمیز بچوں میں بھی استاد برداشت نہ کرے۔ لیکن پاکستان میں جن بدمعاشوں کی حقیقی حکومت ہے انہیں یہی ڈرامے راس آتے ہیں۔
سمجھوتہ اور اطاعت ایک چیز نہیں۔ باعزت سمجھوتے میں دونوں فریق کچھ دیتے اور کچھ حاصل کرتے ہیں۔ غلامی کے معاہدے میں طاقت ور کہتا ہے، اپنی دفاعی قوت محدود کرو، اپنے وسائل ہمارے لیے کھولو، اپنی خارجہ پالیسی بدلو، ہمارے دوست کو تسلیم کرو اور ضمانت پھر بھی ہم نہیں دیں گے۔
قومیں صرف روٹی سے زندہ نہیں رہتیں۔ روٹی، امن اور روزگار ضروری ہیں، مگر عزت اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق بھی ضروری ہے۔ جو حکومت قوم کو فاقے دے کر صرف خود داری کے نعرے لگائے، وہ قابل دفاع نہیں۔ لیکن جو حکومت قرض کی روٹی دے کر قوم کی آزادی گروی رکھ دے، وہ بھی خدمت گزار نہیں۔
حقیقی ’’ملا ازم‘‘ عمامے کا نام نہیں۔ یہ اس ذہنیت کا نام ہے جو سوال سے ڈرتی، شخصیت کو دلیل پر مقدم رکھتی، اختلاف کو غداری سمجھتی اور عوام کی عقل پر پہرے بٹھاتی ہے۔ یہ بیماری مدرسے میں بھی پیدا ہوسکتی ہے، فوجی ہیڈکوارٹر میں بھی، سیاسی جماعت میں بھی اور ٹیلی ویژن اسٹوڈیو میں بھی۔ عمامہ پہن کر اندھی تقلید کرانا ملائیت ہے تو سوٹ پہن کر واشنگٹن کے ہر مطالبے کو حرف آخر سمجھنا کیا ہے ۔۔۔۔۔!
پاکستان کے پاس ایران سے زیادہ نوجوان آبادی، زرخیز زمین، سمندر، معدنیات، ایٹمی قوت اور عالمی منڈیوں تک نسبتاً بہتر رسائی ہے۔ پھر بھی اگر خواندگی، اعلیٰ تعلیم، صحت، تحقیق، ادویات اور صنعت کے کئی میدانوں میں پابندیوں میں گھرا ایران ہم سے آگے ہے تو مسئلہ صرف تہران کے عمامے میں نہیں۔ کچھ خرابی اسلام آباد کے سوٹ، بوٹ، سیاسی وراثت اور قرض کے بریف کیس میں بھی تلاش کرنی چاہیے۔
ایران کی ہر پالیسی کی حمایت ضروری نہیں، مگر اس کی خود مختاری کے حق کا احترام ضروری ہے۔ مذاکرات دانش مندی ہیں، ہتھیار ڈالنا مذاکرات نہیں۔ امن عظیم نعمت ہے، مگر ذلت کو امن کہنا خود فریبی ہے۔ روٹی زندگی ہے، لیکن ایسی روٹی جس کے ہر لقمے کے ساتھ آزادی کا ایک حصہ نگلنا پڑے، قوم کو زندہ تو رکھ سکتی ہے، باوقار نہیں۔
غلام بھی کھاتا، سوتا اور کبھی مالک کے محل میں اچھا لباس پہنتا ہے۔ مگر تاریخ اسے آزاد قوم نہیں کہتی۔ زندہ قوم وہ ہے جو اپنی غلطیوں کا احتساب خود کرے، اپنے حکم رانوں سے سوال کرے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ بھی خود کرے۔ میرا پاکستان غلام ہے ، اسے اک لمبا سفر درپیش ہے ابھی ۔۔۔۔۔۔ غلامی کے پنجرے میں عادی پرندے کو آزادانہ روزی کے لئے اڑان بھرتے پرندوں کا مذاق نہیں اڑانا چائیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں